کہتے ہیں
شہر بغداد میں ایک ملحد آیا جو اللہ کی ذات کا انکاری تھا اور اس بات سے انکاری
تھا کہ شیطان کو کبھی عذاب ہوگا وہ شہر میں پھرتا رہتا اور کہتا کہ کوئی علم ہے جو
مجھے میری باتوں کا جواب دیں اس کے دو سوالات تھے پہلے سال اس کو یہ تھا کہ اللہ
کی ذات نظر آتی ہے کہ نہیں آتی اگر نظر آتی ہے تو مجھے کوئی بتائے کہ اللہ کی ذات
کہاں ہے اور اگر ایک ذات ہے نظر نہیں آتی تو اس کا مطلب ہے وہ ذات موجود ہی نہیں
تو پھر اس کو ہم کیوں مانے اور اس کی عبادت کیوں کریں اور اس بات کا اقرار کیوں
کرے کہ ساری کائنات اسی شخص نے بنائی ہے دوسرا سوال یہ تھا کہ کوئی مجھے یہ بتائے
شیطان آگ سے بنا ہے اور اپنے اعمال کی وجہ سے اللہ کی نافرمانی کی وجہ سے وہ جہنم
میں جائے گا اور جہنم کے بارے میں مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ وہ
اک سے بنی ہے تو پھر آگ آنکھ کو چلائیں گی یانہیں اور اس سے شیطان کو کیا تکلیف ہوگی کیونکہ اس اپنا وجود آگ سے بنا ہے پھر اگر
اس کو جلائے بھی تو اسے کوئی تکلیف نہیں ہوگی پورے شہر میں یہ شخص منادی کیے ہوئے
پھر رہا تھا یہ شخص ایک دن یا شخص خلیفہ کے دربار تک پہنچ گیا
وہاں پر بھی یہی عرض کیا کہ میں دیکھنا چاہتا ہوں کہ آپ کے علما کتنے ہیں ذہین ہے
اور وہ میرے سوالات کے جوابات دے سکیں گے کہ نہیں خلیفہ نے اس کے سوالات سنی اور
اس کے بعد علماء کے پاس یہ سوالات بھیجے اور کہا کہ یہ شخص اسلام کو چیلنج کرتا ہے
علماء کو چیلنج کرتا ہے کہ مجھے کوئی ابھی تک جواب نہیں دے سکا تو آپ میں سے کوئی
ایسا ہے جو ان سوالات کے جواب دے سکے ان میں سے ایک خط حضرت امام ابو حنیفہ رحم
اللہ تعالی کے پاس بھی پہنچا حضرت امام ابو حنیفہ نے فرمایا کہ یہ سوالات تو
انتہائی دلچسپ ہے اور ان کے جوابات بھی ایسے ہی دلچسپ ہے اور انتہائی آسان ہے اس
لئے میں جاؤں گا کل اور اس کے جوابات دوں گا
اگلے دن خلیفہ کا دربار لگا دو اس ملحد کو بھی
بلایا گیا اور اس کے ساتھ امام ابو حنیفہ رحم اللہ تعالی بھی تشریف لائے خلیفہ نے
اس ملحد سے کہا کہ آگے آؤ اور اپنے سوالات بتاؤ اس نے آگے آکر پوچھا کہ مجھے یہ
بتاو کہ اللہ کی ذات کہاں ہے اگر کہیں نظر آتی ہے
تو مجھے دکھاؤ اگر نظر نہیں آتی تو پھر یہ مان لو
کہ اللہ کی ذات نہیں ہے دوسرا سوال میرا یہ ہے کہ شیطان آگ سے بنا ہے اور آپ کے
عقیدے کے مطابق جہنم میں بھی آگ کا عذاب ہوگا تو یہ بتاؤ کہ آگ کو اگر آگ میں ڈالا
جائے تو اس کو کس طرح کا عذاب ہوگا امام ابو حنیفہ رحم اللہ تعالی میں موجود تھے
ان کے ہاتھ میں ایک مٹی کا ڈھیلا موجود تھا جیسے ہی اس نے دو سوال پوچھے امام ابو
حنیف رحمہ اللہ نے اس کے وہ مٹی کا ڈھیلا اس کے سر پر دے مارا وہ چلایا اور آپ نے
سیر مسلتے ہوئے کہنے لگا سوالات کے جوابات نہیں دے سکتے تو مار دے کیوں ہو امام
ابو حنیفہ رحم اللہ تعالی نے فرمایا کہ کیا ہوا میں نے تو کچھ غلط نہیں کیا اس نے
کہا کہ مٹی کا ڈھیلا میرے سر پہ سب کے سامنے مارا ہے اور کہتے ہو کچھ غلط نہیں کیا
امام ابو حنیفہ رحم اللہ تعالی نے فرمایا کیا ہوا گلہ لگنے سے تمہیں کیا ہوا اس نے
کہا میرے سر میں شدید درد ہو رہا ہے امام ابو حنیفہ اللہ تو نے فرمایا کہ تم یہ
مانتے ہو کہ مٹی سے بنے ہو اس نے کہا بالکل انسان مٹی سے بنا ہے امام ابو حنیفہ
رحم اللہ تعالی نے فرمایا کہ میں نے بھی تو تمہیں مٹی کی ماری ہے تو پھر تمہیں درد
کیوں ہوا یہ سن کر وہ خاموش ہو امام ابو حنیفہ رحم اللہ تعالی نے دوسری بات کی اور
فرمایا گیا یہ بتاؤ مٹی لگی تو تمہارے سر میں درد ہوا تو درد کہاں ہے اس نے کہا
درد کہاں نظر آتا ہے یہ تو محسوس کیا جاسکتا ہے امام اللہ تعالی نے فرمایا بالکل
ایسے ہی اللہ کی ذات نظر نہیں آتی لیکن محسوس کی جاسکتی ہے اور رہی بات شیطان کو
عذاب دینے کی وجہ سے تمھارا جسم مٹی سے بنا ہے لیکن مٹی کا ڈھیر لگنے سے تمہیں
تکلیف ہوئی ایسے ہی شیطان کا جسم گرچہ آگ سے بنا ہے کہ جب وہ آگ میں اللہ کے حکم
سے جلایا جائے گا اس کو سزا ہو گی تو اسے بھی تکلیف محسوس ہوگی یہ سن کر خلیفہ وقت
مسکراہٹ ہے اور امام ابو حنیفہ کی تعریف
کی اور اس ملحد کو وہاں سے بھگا دیا