Select Menu

پاک اردو ٹیوب

پاک اردو ٹیوب

اہم خبریں

clean-5

Islam

Iqtibasaat

History

Photos

Connect With us

Misc

Technology


کہتے ہیں شہر بغداد میں ایک ملحد آیا جو اللہ کی ذات کا انکاری تھا اور اس بات سے انکاری تھا کہ شیطان کو کبھی عذاب ہوگا وہ شہر میں پھرتا رہتا اور کہتا کہ کوئی علم ہے جو مجھے میری باتوں کا جواب دیں اس کے دو سوالات تھے پہلے سال اس کو یہ تھا کہ اللہ کی ذات نظر آتی ہے کہ نہیں آتی اگر نظر آتی ہے تو مجھے کوئی بتائے کہ اللہ کی ذات کہاں ہے اور اگر ایک ذات ہے نظر نہیں آتی تو اس کا مطلب ہے وہ ذات موجود ہی نہیں تو پھر اس کو ہم کیوں مانے اور اس کی عبادت کیوں کریں اور اس بات کا اقرار کیوں کرے کہ ساری کائنات اسی شخص نے بنائی ہے دوسرا سوال یہ تھا کہ کوئی مجھے یہ بتائے شیطان آگ سے بنا ہے اور اپنے اعمال کی وجہ سے اللہ کی نافرمانی کی وجہ سے وہ جہنم میں جائے گا اور جہنم کے بارے میں مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ وہ
اک سے بنی ہے تو پھر آگ آنکھ کو چلائیں گی یانہیں اور اس سے شیطان کو کیا تکلیف ہوگی کیونکہ اس اپنا وجود آگ سے بنا ہے پھر اگر
اس کو جلائے بھی تو اسے کوئی تکلیف نہیں ہوگی پورے شہر میں یہ شخص منادی کیے ہوئے پھر رہا تھا  یہ شخص ایک دن یا شخص خلیفہ کے دربار تک پہنچ گیا وہاں پر بھی یہی عرض کیا کہ میں دیکھنا چاہتا ہوں کہ آپ کے علما کتنے ہیں ذہین ہے اور وہ میرے سوالات کے جوابات دے سکیں گے کہ نہیں خلیفہ نے اس کے سوالات سنی اور اس کے بعد علماء کے پاس یہ سوالات بھیجے اور کہا کہ یہ شخص اسلام کو چیلنج کرتا ہے علماء کو چیلنج کرتا ہے کہ مجھے کوئی ابھی تک جواب نہیں دے سکا تو آپ میں سے کوئی ایسا ہے جو ان سوالات کے جواب دے سکے ان میں سے ایک خط حضرت امام ابو حنیفہ رحم اللہ تعالی کے پاس بھی پہنچا حضرت امام ابو حنیفہ نے فرمایا کہ یہ سوالات تو انتہائی دلچسپ ہے اور ان کے جوابات بھی ایسے ہی دلچسپ ہے اور انتہائی آسان ہے اس لئے میں جاؤں گا کل اور اس کے جوابات دوں گا
اگلے دن خلیفہ کا دربار لگا دو اس ملحد کو بھی بلایا گیا اور اس کے ساتھ امام ابو حنیفہ رحم اللہ تعالی بھی تشریف لائے خلیفہ نے اس ملحد سے کہا کہ آگے آؤ اور اپنے سوالات بتاؤ اس نے آگے آکر پوچھا کہ مجھے یہ بتاو کہ اللہ کی ذات کہاں ہے اگر کہیں نظر آتی ہے  تو مجھے دکھاؤ اگر نظر نہیں آتی تو پھر یہ مان لو کہ اللہ کی ذات نہیں ہے دوسرا سوال میرا یہ ہے کہ شیطان آگ سے بنا ہے اور آپ کے عقیدے کے مطابق جہنم میں بھی آگ کا عذاب ہوگا تو یہ بتاؤ کہ آگ کو اگر آگ میں ڈالا جائے تو اس کو کس طرح کا عذاب ہوگا امام ابو حنیفہ رحم اللہ تعالی میں موجود تھے ان کے ہاتھ میں ایک مٹی کا ڈھیلا موجود تھا جیسے ہی اس نے دو سوال پوچھے امام ابو حنیف رحمہ اللہ نے اس کے وہ مٹی کا ڈھیلا اس کے سر پر دے مارا وہ چلایا اور آپ نے سیر مسلتے ہوئے کہنے لگا سوالات کے جوابات نہیں دے سکتے تو مار دے کیوں ہو امام ابو حنیفہ رحم اللہ تعالی نے فرمایا کہ کیا ہوا میں نے تو کچھ غلط نہیں کیا اس نے کہا کہ مٹی کا ڈھیلا میرے سر پہ سب کے سامنے مارا ہے اور کہتے ہو کچھ غلط نہیں کیا امام ابو حنیفہ رحم اللہ تعالی نے فرمایا کیا ہوا گلہ لگنے سے تمہیں کیا ہوا اس نے کہا میرے سر میں شدید درد ہو رہا ہے امام ابو حنیفہ اللہ تو نے فرمایا کہ تم یہ مانتے ہو کہ مٹی سے بنے ہو اس نے کہا بالکل انسان مٹی سے بنا ہے امام ابو حنیفہ رحم اللہ تعالی نے فرمایا کہ میں نے بھی تو تمہیں مٹی کی ماری ہے تو پھر تمہیں درد کیوں ہوا یہ سن کر وہ خاموش ہو امام ابو حنیفہ رحم اللہ تعالی نے دوسری بات کی اور فرمایا گیا یہ بتاؤ مٹی لگی تو تمہارے سر میں درد ہوا تو درد کہاں ہے اس نے کہا درد کہاں نظر آتا ہے یہ تو محسوس کیا جاسکتا ہے امام اللہ تعالی نے فرمایا بالکل ایسے ہی اللہ کی ذات نظر نہیں آتی لیکن محسوس کی جاسکتی ہے اور رہی بات شیطان کو عذاب دینے کی وجہ سے تمھارا جسم مٹی سے بنا ہے لیکن مٹی کا ڈھیر لگنے سے تمہیں تکلیف ہوئی ایسے ہی شیطان کا جسم گرچہ آگ سے بنا ہے کہ جب وہ آگ میں اللہ کے حکم سے جلایا جائے گا اس کو سزا ہو گی تو اسے بھی تکلیف محسوس ہوگی یہ سن کر خلیفہ وقت مسکراہٹ ہے اور امام ابو حنیفہ کی تعریف   کی اور اس ملحد کو وہاں سے بھگا دیا